رمضان میں وزن کم کرنے کے 6 طریقے

رمضان آپ کے لیے اپنے پسندیدہ کھانوں سے لطف اندوز ہونے کا ایک ذریعہ ہو سکتا ہے۔ پورا دن روزہ رکھنے کے بعد آپ کم سے کم اس چیز کے مستحق تو ہیں ہی کہ آپ اپنی پسند کے کھانے کھا سکیں، ہے نا؟ لیکن دوسری طرف، یہ ایک صحت مند زندگی کی طرف آپ کا پہلا قدم بڑھانے کا موقع بھی ہو سکتا ہے جس کی آپ کے جسم کو بہت ضرورت ہے۔

اصل میں ہم رمضان کے آغاز پر تو ارادہ کرتے ہیں کہ اس رمضان میں ہم روزے کی مدد سے اپنا بڑھتا ہوا وزن کم کریں گے۔ لیکن جیسے ہی ہمارا سامنا پُر لطف افطاریوں سے ہوتا ہے، تو ہم میں سے اکثر کی ساری ریاضت دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ اور اس چکر میں ہم وزن کم کرنے کی بجائے رمضان کے آخر تک اُلٹا اپنا وزن اچھا خاصا بڑھا  چکے ہوتے ہیں۔ لیکن، اس بلاگ میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ آپ اپنے وزن کم کرنے کے ارادے کو کیسے کامیابی سے عملی جامہ پہنا سکتے ہیں۔ اس پوسٹ میں ہم 6 ایسے طریقے آپ کے ساتھ  شیئر کریں گے جن پر عمل کر کے آپ آسانی سے اپنا وزن کم کر سکتے ہیں۔ تو چلیے شروع کرتے ہیں۔

سحر و افطار میں پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں

اگرچہ طویل روزے کے اوقات  کی وجہ سے یہ نا ممکن لگتا ہے،  زیادہ پانی پینا آپ کو وزن کم کرنے میں واقعی مدد  دے سکتا ہے۔  مناسب مقدار میں پانی کا استعمال نہ صرف آپ کو پانی کی کمی سے بچائے گا،  بلکہ یہ افطار کے بعد آپ کی میٹھا کھانے کی خواہش کو بھی  کنٹرول کرے گا۔

:کتنا پانی پینا کافی ہو گا؟  تو اس کا جواب ہے 2 لیٹر یا پھر آٹھ گلاس روزانہ کے لیے کافی ہو گا۔ اور اس کو آپ اس طرح سے  تقسیم کر سکتے ہیں

دو گلاس افطار کے وقت (روزہ افطار کرتے ہوئے)

چار گلاس افطار سے لیکر سحر کے درمیان کے وقت میں (روزہ رکھنے سے پہلے کھانے تک)۔ لیکن یاد رہے ہر ایک گھنٹے بعد ایک گلاس پیئیں۔

دو گلاس سحر کے وقت(کھانا کھانے کے بعد)۔

ذہن میں رکھیں کے  کافی اور چائے جیسے مشروبات کو پانی میں شمار نہیں کیا جا سکتا (یعنی کافی یا چائے پینے سے پانی کی کمی پوری نہیں ہو گی)۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ ان مشروبات سے اجتناب کیا جائے۔اس کے بجائے، جڑی بوٹیوں والی چائے پانی کا ایک بہترین متبادل ثابت ہوتی  ہے اور یہ آپ کے ہاضمے میں مدد کر سکتی ہے۔

افطار میں ہلکا اور متوازن کھانا کھائیں

رمضان میں آپ کا میٹا بولزم (خوراک کا انرجی میں تبدیل ہونے کا عمل) سست ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں آپ کی انرجی کی ضرورت بھی کم ہو جاتی ہے۔افطار کا کھانا اس وقت کی کمی کو پورا نہیں کر سکتا جو آپ نے بغیر کھانے کے  گزارا۔ افطار کے وقت یہ نہ سوچیں کے آپ نے سارے دن میں کچھ نہیں کھایا، بلکہ اس کو عام طور پر کھایا جانے والا رات کا کھانا سمجھ کر ہی کھائیں۔ روزہ کھجور  کے ساتھ کھولیں۔ کیوں کہ کھجور میں  شوگر ہوتی ہے جس کی روزے کے بعد آپ کے جسم کو ضرورت

ہوتی ہے۔  ایک سے زیادہ کھجور نہ کھائیں کیوں کہ شوگر کی زیادتی آپ کے وزن کم کرنے کے مقصد پر اُلٹا اثر ڈال سکتی ہے۔

اس کے بعد آپ سبزی یا دال کا سوپ پی سکتے ہیں۔ اس کے بعد سبزیوں کے سلاد کا استعمال کریں اور 1-2 چمچ زیتون کے تیل کا بھی استعمال کریں۔دیگر تمام بھوک بڑھانے والے بشمول کاربوہائیڈریٹ سے بھرپور غذاؤں کو چھوڑ دیں۔ بھوک بڑھانے والی اشیاء کے بعد، تھوڑا سا وقفہ کرنا ضروری ہے۔ کیوں کہ آپ کو اپنے نظامِ انہضام  پر زیادہ بوجھ ڈالنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ نماز ادا کریں، 5-10 منٹ کی سیر کریں۔

جب آپ اپنا کھانا دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہوں تو صرف ایک اہم ڈش کا انتخاب کریں، سمجھداری سے انتخاب کریں اور تلی ہوئی ڈشوں سے پرہیز کریں، اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ کاربوہائیڈریٹ اور پروٹین میں متوازن ہے، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اپنے حصوں (معدے میں کھانے کو  ہضم کرنے کے لیے مختلف حصوں) کو کنٹرول کریں۔

سحری کبھی بھی ترک نہ کریں

یہ سچ ہے کہ ہر سال رمضان میں ہمارے کھانے کے اوقات محدود ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ سحری کے وقت روزہ رکھنےسے پہلے کھانا بھی چھوڑ دیں۔ سحری چھوڑ دینے کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ آپ کو افطار میں زیادہ بھوک لگے گی جس کی وجہ سے آپ ضرورت سے زیادہ کھا لیں گے اور اس طرح آپ کا ڈائٹ پلان خراب

ہو جائے گا۔

سحری میں نمکیات سے پرہیز کریں

سحری میں کھائی جانے والی چیزوں کا انتخاب کرتے ہوئے یہ دھیان رکھیں کہ کوئی چیز ایسی نہیں جس میں بہت زیادہ نمکیات ہیں۔ جب آپ نمکیات کو محدود رکھیں گے تو آپ کو پیاس کم لگے گی۔یہ سفید ریفائنڈ بریڈ کے بجائے پیچیدہ کاربوہائیڈریٹ جیسے ہول گرین بریڈ پر مشتمل ہونا چاہیے اور اس میں پروٹین کا ایک اچھا ذریعہ ہونا چاہیے

جیسے لبنہ، پنیر یا انڈے۔ یہ امتزاج اس بات کو یقینی بنائے گا کہ آپ کے خون میں گلوکوز کی سطح مستحکم ہے تاکہ آپ کو پورا دن بھوک نہ لگے۔چس

چُست رہیں

روزہ رکھنے کا مطلب یہ بالکل نہیں ہے کہ آپ کو اب پورا دن سونے یا  سُست پڑے رہنے کا حق حاصل ہو گیا۔  رمضان میں اپنی معمول کی سرگرمیوں کو ایک حد تک جاری رکھیں  لیکن جب سورج  اور گرمی اپنے عروج پر ہو تو اس سے بچنے کی کوشش کریں۔ یاد رکھیں کہ آپ خالی معدے کے ساتھ پہلے سے زیادہ  فیٹس کو جلا رہے ہوں گے۔روزہ افطار کرنے کے 30 منٹ بعد، گھر پر کی جانے والی ورزش کا معمول بنائیں اور بھر پور ورزش کریں۔ اگر آپ جِم جاتے ہیں تو اپنے ٹرینر سے خصوصی طور پر اپنے لیے گھر سے کیا جانے والا پلان تیار کروائیں۔

پروسیسڈ شوگرسے پرہیز کریں

ایسا نظر آتا ہے کہ رمضان میں وزن بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ افطاری پر کھایا جانے والا کھانا نہیں ہے۔ جی ہاں، آپ کا اندازہ درست ہے، یہ چینی کی اُس مقدار سے بڑھتا ہے جو ہم مختلف مشروبات میں استعمال کرتے ہیں۔اس رمضان میں، اپنے آپ کو چیلنج کریں کہ صرف قدرتی طور پر موجود چینی جیسے پھل، خشک میوہ جات، گڑ اور شہد کھائیں۔ یہ عادت آپ کی زندگی بدل دے گی اور اگلی دفعہ جب آپ اپنا وزن کرنے کے لیے پیمانے پر کھڑے ہوں گے تو آپ کو خوشگوار حیرت ضرور ہو گی۔

2 thoughts on “رمضان میں وزن کم کرنے کے 6 طریقے

    1. you can avoid your normal eating routines in case you want to maintain. And for gaining the weight, go for more sugars, more fats as we normally do.

Leave a Reply

Your email address will not be published.

You may also like these